1 صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ، وَالن...)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

430. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَرَآنَا حَلَقًا فَقَالَ: «مَالِي أَرَاكُمْ عِزِينَ» قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَا...

صحیح مسلم:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

(باب: نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم اور سلام پھی...)

430. ابو معاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسیب بن رافع سے، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں، جیسے وہ بدکتے ہوئے سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ (ہاتھ اٹھا کر دائیں بائیں گھوڑے کی دم کی طرح کیوں ہلاتے ہو۔ دیکھیے، حدیث: 970۔971) نماز میں پرسکون رہو۔‘‘ انہوں نے کہا: پھر آپ (ایک اور موقع پر) تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا: ’’ کیا وجہ ہے کہ تمہیں ٹولیوں میں (بٹا ہوا) دیکھ رہا ہوں؟‘‘ پ...

2 سنن النسائي: كِتَابُ الْإِمَامَةِ (بَابُ حَثِّ الْإِمَامِ عَلَى رَصِّ الصُّفُوفِ وَال...)

صحیح

816. أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ...

سنن نسائی: کتاب: امامت کے متعلق احکام و مسائل (باب: صفوں کو ملانے اور قریب قریب بنانے کے سلسلے می...)

816. حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: تم اس طرف صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب تعالیٰ کے ہاں صف بندی کرتے ہیں؟ صحابہ نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف بندی کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: (پہلے) صف اول کو پورا کرتے ہیں نیز صفوں میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ...

3 سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ إِقَامَةِ الصُّفُوفِ)

صحیح

992. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» قَالَ، قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ» ...

سنن ابن ماجہ: کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ (باب: صفیں سیدھی کرنا)

992. سیدنا جابر بن سمرہ سوائی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ’’تم اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں بناتے ہیں؟ ‘‘راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ‘‘...